26 مئی 2026 - 22:45
اسلامی جمہوریہ ایران پر جارحیت؛ "ٹرمپ" "ٹرمپ" کے جال میں

ایران کے خلاف ٹرمپ کے "جوہری معاہدے (JCPOA)" مخالف اقدامات اور ہالی ووڈی جنگجوئی اور ایران اور دنیا کو زیر نگیں لانے کے دعوؤں نے اب ایران کے سامنے اس کی شکست کو پہلے سے زیادہ عیاں کر دیا ہے، اور وہ سوشل میڈیا پر اپنے باتونی پن کے ذریعے اس شکست کو امریکی عوام کے ذہن سے نہیں مٹا سکتا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی صدر نے ثابت کرکے دکھایا ہے کہ وہ غیر حقیقی اور بعض اوقات ہالی ووڈی ماحول میں جیتا ہے اور ایران کے سیاسی و فوجی ماحول کا غلط مطلب لیتے ہوئے اس کے خلاف جنگ میں اچھلا اور اب اسے متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ٹرمپ نے اپنی پہلے دور صدارت میں جوہری معاہدے (JCPOA) سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا وہی جوہری معاہدہ جسے اس کے پیشرو اوباما کے امریکہ نے متعدد دھوکہ دہیوں کے ذریعے نافذ نہیں ہونے دیا تھا، اب وہ ایک ایسے راستے میں پھنس چکا ہے جہاں ایران کے خلاف جنگ کے دوران اور ناگزیر معاہدے کے تحت وہ آبنائے ہرمز کے اوزار کے دباؤ سے، اس ملک کو رعایتیں دینے کے بغیر، چھٹکارا نہیں پا سکتا۔ ٹرمپ اسی معاملے کی وجہ سے امریکہ کے اندرونی ماحول میں شدید تنقید کا سامنا کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے جوہری معاہدے سے علیحدہ ہو کر اس معاہدے کو توڑ دیا؛ پھر دوسرے دور صدارت میں ایران پر فوجی حملہ کیا اور اس کے بعد پسپائی پر مجبور ہؤا۔ دنیا اور امریکہ کی معیشت اس جنگ کی وجہ سے شدید بے چینی کا شکار ہوئی اور اس ملک میں پٹرول کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز، کو اپنی حکمرانی میں شامل کر دیا جس پر وہ اس سے پہلے اپنی حکمرانی نافذ نہیں کرتا تھا، اور اب ٹرمپ مجبور ہے کہ دوسرے ٹرمپ پر قدم رکھ کر ایران کے ساتھ سمجھوتہ کر تاکہ ایک ہلاکت خیز گھٹن سے نکل سکے۔ اگرچہ وہ اور اس کے حاشیہ بردار دعویٰ کرتے ہیں کہ اگلا معاہدہ JCPOA سے بہتر ہے، لیکن امریکی رائے عامہ اس دعوے کو قبول نہیں کرتی۔

ٹرمپ نے اس سلسلے میں جھوٹی خبریں پھیلا کر اور ورچوئل ناٹکوں کا سہارا لے کر خود کو فاتح کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش کی، لیکن اندرونی امریکی رائے عامہ اس کی فتحمندی کے اس دعوے کو بھی قبول نہیں کرتی۔

امریکی تجزیہ کار یہ دلیل دیتے ہیں کہ ٹرمپ انتظآمیہ عملاً ایران کے ساتھ جنگ، ہار چکی ہے اور اب وہ اس بحران سے اس طرح نکلنے کی کوشش کر رہی ہے کہ امریکی عوام اس شکست کے طول و عرض کو نہ سمجھ پائیں۔ یہ معاملات اور امریکی صدر کے دعوے اس کی شکست کو اور بھی بڑا کرکے دکھا رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جو کچھ ہؤا، وہ اس حکمت عملی کی بدانجامی ہے جو ایران کے بارے میں غلط اندازوں اور ناکافی معلومات کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی۔ JCPOA سے عیحدگی، کوئی قیمت ادا کئے بغیر، زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کے امکان کا تصور، اور پھر فوجی آپشن کی طرف رجوع کرنا، یہ سب اس شکست کے سلسلے کی کڑیاں ہیں جس نے "ٹرمپ کو" "ٹرمپ کے جال" میں پھنسا دیا ہے؛ ایک ایسا جال جس میں نہ تو لاحاصل جنگ پر ڈٹ کر رہنا ممکن ہے اور نہ ہی شکست قبول کئے بغیر، اس سے نکلنا: ایک مکمل تعطل جو سلطنتوں کی تباہی کا بنیاد بن سکتا ہے۔

ایران نے ہوشیاری کے ساتھ آبنائے ہرمز کے جغرافیائی ترپ کے پتے کو ایک اسٹریٹیجک وسیلے میں تبدیل کر دیا اور یہ دکھا دیا کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ تب ہی کارآمد ہوتا ہے جب مخالف فریق کے پاس دباؤ ڈالنے کا کوئی جوابی ذریعہ نہ ہو۔

امریکہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی معاشی ہلچل وہ بھاری تاوان تھا جو آزاد منڈی نے واشنگٹن کی جذباتی پالیسیوں پر عائد کر دیا۔

اب ٹرمپ دو انتخابوں کے درمیان پھنس چکا ہے: جاری رکھنا ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ ( War of Attrition) جسے امریکی اور مغربی رائے عامہ قبول نہیں کرتی، یا پسپائی جو ظاہری طور پر، رعایت دیئے بغیر کے معاہدے کی شکل میں ہو لیکن حقیقت میں رعایتیں دینے کے ساتھ انجام پائے۔

"ٹرمپ کا جال" بالکل وہیں ہے جہاں ایک نرگسی مزاج صدر کو آخرکار خارجہ پالیسی کا بڑا سبق سیکھنا پڑتا ہے؛ کوئی بھی سپر پاور کسی طاقتور ملک کی حقیقتوں کا انکار کرتے ہوئے میدانِ جنگ سے فتح یاب نہیں ہو سکتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: امیر حمزہ نژاد

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha